7 جولائی 2020 - 16:09
حضرت زہرا(ع) کی شان میں گستاخی کے خلاف اصغریہ علم و عمل تحریک کا مذمتی بیان

اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید شکیل شاھ حسینی نے جہالت کا مظاہرہ کرنے والے مولوی اشرف جلالی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی مکروہ حرکات اور مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ وطن عزیز اور اسلامی اتحاد سمیت امت کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں مولوی اشرف آصف جلالی کے ذریعے سیدہ کونین صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا (س) کی شان میں کی گئی گستاخی کے خلاف اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس نازیبا حرکت کی شدید اور سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید شکیل شاھ حسینی نے جہالت کا مظاہرہ کرنے والے مولوی اشرف جلالی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی مکروہ حرکات اور مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ وطن عزیز اور اسلامی اتحاد سمیت امت کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں۔
 انہوں نے حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی شان بیان کرتے ہوئے کہا حضرت فاطمہ زہرا (س) عالم اسلام کی ایسی با عظمت خاتون ہیں جنکی فضیلت زندگی کے ہر شعبے میں آشکار ہے اور عظمتوں کے اس سمندر کی فضلیتوں کو قرآنی آیات اور معصومین (ع) کی روایات میں بارہا ذکر کیا گیا ہے۔

تفسیر فرات کوفی میں امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" میں "لیلۃ" سے مراد فاطمہ زہرا (س) کی ذات گرامی ہے اور "القدر" ذات خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے ۔ لہذا جسے بھی فاطمہ زہرا (س) کا حقیقی عرفان حاصل ہو گیا اس نے لیلۃ القدر کو درک کر لیا، آپ کو فاطمہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ آپ کی معرفت سے عاجز ہیں ۔

شریعت کے سارے اعمال بغیر محمد و آل محمد (ع) کی ولایت کے باطل و بیکار ہیں اور روایات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتاہے کہ دین کا استحکام فاطمہ(س) اور ان کی ذریت کی محبت سے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دین قیم کی تفسیر آپ کی ذات گرامی سے کی گئی ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ کہ آپ نے انہیں ’’سیدۃ نساء اھل الجنۃ‘‘ قرار دیا نیز تمام صحابہ و تابعین کہ جنہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت و طہارت کا اعتراف کیا، کے نزدیک آپ کا مرتبہ سب پر عیاں ہے، اس جاہل و سیاہ دل کی ہرزہ سرائیوں سے یقینا رسول اسلام (ص) اور اہل ایمان کی دل آزاری ہوئی ہے اور اس کا تنہا راستہ کھلے عام توبہ و استغفار اور معذرت خواہی ہے جیسا کہ اس نے کھلے عام اس ناقابل بخشش خطا کا ارتکاب کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲